ابن انشا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو ان کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانا کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانا کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من اک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا
ابن انشا کا کلام ''انشا جی اٹھو اب کوچ کرو'' جس کے لکھنے کے ایک ماہ بعد وہ وفات پا گئے تھے ۔ اس کے بعد قتیل شفائی نے یہ غزل لکھی تھی جس میں ابن انشا کو مخاطب کیا گیا ہے ۔
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشاؔ جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے ان کو نہ رلاؤ انشاؔ جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی اک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں اس دیس نہ جاؤ انشاؔ جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر ان میں اپنے زخموں کا مت زہر ملاؤ انشاؔ جی
اک رات تو کیا وہ حشر تلک رکھے گی کھلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے سجنی کو بتاؤ انشاؔ جی
نہیں صرف قتیلؔ کی بات یہاں کہیں ساحرؔ ہے کہیں عالیؔ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے دامن نہ چھڑاؤ انشاؔ جی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں