معیاری پوسٹس کا ذخیرہ

جمعرات، 30 مئی، 2019

فرقہ بندی اور خلافِ راشدہ - لطف الاسلام

فرقہ بندی اور خلافت راشدہ

لطف الاسلام

مرشد کمال صاحب نے بھارت سے فرقہ بندی کے متعلق مضمون ارسال فرمایا ہے۔ ان کی نیک نیتی اور مسلمانوں سے ہمدردی پر کوئی شبہ نہیں۔ تکفیر بازی نے یقینا نہ صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ اس عفریت نے دہشت گردی کی شکل میں ساری دنیا کو ایک عذاب سے دو چار کر رکھا ہے۔

لیکن بصد ادب مرشد کمال صاحب سے گزارش ہے کہ جہاں قران فرقہ بندی کے خلاف حکم دیتا ہے وہاں اس کا حل بھی پیش کرتا ہے۔ صرف یہ کہنا کہ خود کو شیعہ، سنی، وہابی وغیرہ نہ کہلانے سے فرقہ بندی کا خاتمہ ہو جائے گا بچگانہ سی بات ہے۔ جس اجتہاد کی طرف آپ اشارہ فرماتے ہیں وہ ہر ’مجتہد‘ کو اپنے نئے فرقہ کا بانی بناتا ہے۔ قران پر غور فکر لازم ہے۔ دین، ارکان اور اجزائے دین پر خوب سوچ سمجھ کر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ اندھی تقلید بھی نقصان کا باعث ہے۔ پاکستان کے لبیک والے فرقے کو دیکھ لیجیے۔ لوگ انہیں شاید سنی بریلوی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خادم رضوی کا اب اپنا نیا فرقہ ہے۔ کیا نام رکھیں؟ سنی حنفی، بریلوی، خادموی (جی ایچ کیو والے)۔

غامدی صاحب بھی اب اپنا فرقہ رکھتے ہیں۔ وہ مانیں یا نہ مانیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا بھی ایک فرقہ ہے۔ اور آپ کے مولانا وحید الدین بھی اب دیوبندی نہیں رہے۔ وہ بھی اپنے فرقے کے سربراہ ہیں۔

بات لمبی نہ ہو جائے اس لئے میں اپنے مدعا کی طرف آتا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ قرآن میں مسلمانوں کی وحدت قائم رکھنے کا ایک ہی حل بیان کیا گیا ہے۔ شریعت و رسالت کی تکمیل کے بعد مسلمانوں کو اپنے معاملات اللہ اور رسول کے بعد اولی الامر کے سامنے رکھنے کا حکم ہے۔
سورہ النور کی آیت 55 میں خلافت کے قیام کا وعدہ ہے جو نیک اور صالح مسلمانوں کو عطا کی جائے گی۔

کئی احادیث میں بھی نبوت کے بعد خلافت راشدہ کی پیشگوئی اور پھر ایک عرصہ کے بعد خلافت کے دوبارہ قیام کی خبر موجود ہے۔ ان احادیث کے تعبیر کرنے والے موجودہ دور میں بہت سے علماء ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم تو ساری عمر اس خلافت کا قیام کرتے کرتے گزر گئے۔ دولت اسلامیہ المعروف داعش بھی اس خلافت کی داعی تھی۔ شنید ہے کہ شاہ فیصل بھی اس خلافت کے متمنی تھے۔ لیکن کئی صدیاں گزرنے کے باوجود وہ خلافت ابھی تک دنیا میں نہیں لوٹ سکی۔ اسی طرح شیعہ مسلک میں امامت کا منصب ہے جو ایک عرصہ سے معلق ہے۔ اور اس کے انتظار میں ایران اور عراق وغیرہ میں اجتہاد کے راستے اہل تشیع کی قیادت کی کوشش جاری ہے۔

ہم جو قران کے حرف حرف کے ماننے والے ہیں ان کے لئے یہ وعدہ روز روشن کی طرح برحق ہے۔ لیکن اس خلافت کے انتظار یا اس خلیفہ کی تلاش کی بجائے  دین کے شیرازے کو بکھرے رہنے دینا بھی فرقہ واریت کی ایک شکل ہے۔

مولانا آزاد، اسم با مسمیٰ تھے۔ دیوبند سے ربط کے باوجود ان کے روایتی علماء سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی اس مسئلہ پر قلم اٹھایا اور مسئلہ خلافت نامی رسالے میں یہ مشورہ دیا کہ تمام مسلمان کسی با علم و عمل مسلمان کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور بلا چون چرا اس کی اطاعت کریں۔

دراصل اطاعت اور مرشد کی تلاش مسلمان کی سرشت میں شامل ہے۔ تبھی تو جو خود کو فخر سے غیر مقلد کہتے ہیں ان کو بھی علماء کی اطاعت کے بغیر چارہ نہیں۔ صوفیوں، پیروں، سجادہ نشینوں کو ماننے والے بھی تعلق بیعت کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے کسی نہ کسی کے پیوستہ رہتے ہیں۔ ہیاں تک کہ آزاد منش قسم کے ماڈرن مسلمان بھی کوئی نہ کوئی پیر یا پیرنی اپنے شہروں اور کالونیوں میں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ جہاں تک رہے کچھ انٹلیکچول قسم کے تعلیم یافتہ مسلمان تو ان کو اپنی تاویلوں اور اور اندازوں کے بعد اپنا چھوٹا سا فرقہ ایجاد کرنا پڑتا ہے۔ اس فرقہ کے بانی وہ خود اور ان کے مقلد ان کے بچے یا چند دوست احباب ہوتے ہیں۔ ان اصحاب کی زندگی کے ساتھ یہ فرقہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

 آیت استخلاف جو سورہ نور میں آتی ہے اس کو غور سے پڑھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ جو بھی ہو اسے اللہ تعالیٰ خود چنتا ہے اور اس کی تائید ایسی شان وشوکت سے کرتا ہے کہ صالح اور متقی مسلمان اس کو مانے اور پہچانے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔

اس کی سب سے اعلیٰ مثالیں ہمیں خلافت راشدہ میں نظر آتی ہیں۔ اس کے بعد کئی آئمہ دین ایسے گزرے ہیں جن کو روحانی خلیفہ راشد کہا جا سکتا ہے۔ ان میں آئمہ اہل بیعت بھی ہیں اور کئی اور ایسے نامی گرامی مجددین اور صوفیاء ہیں جن کے معتقد ساری دنیا میں اب بھی ملتے ہیں۔

پس اس فرقہ واریت کا حل خاکسار کی سمجھ میں یہ ہے کہ خلیفہ وقت کو ڈھونڈیں۔ اور اگر نہ ملے تو اس کا انتظار کریں اور اس وقت تک اپنا مسلک جو بھی ہو اس پر تقوٰی اور طہارت سے قائم رہیں۔ انا اور خودسری کو ترک کر کے جو بات قران اور سنت کی کسوٹی پر پوری اترتی ہو اس کو اپنا لیں۔ کسی کو اسلام سے خارج نہ کریں اور اللہ سے اس خلافت کے وعدہ پورا کرنے کی دعا کرتے رہیں جس کا اس نے قران میں وعدہ کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اُردو ڈیٹا بیس کیا ہے؟

ڈیٹا بیس ذخیرہ کرنے کی جگہ کا تکنیکی نام ہے۔ اردو ڈیٹا بیس معیاری اور کارآمد پوسٹس کے ذخیرے کا پلیٹ فارم ہے، جو سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ اور فیس بک کے توسط سے پوری دنیا میں ہر روز پھیلائی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں

پوسٹس میں تلاش کریں

اپنی تحریر بھیجنے کے لیے رابطہ کریں

نام

ای میل *

پیغام *